دہشت گردی
معنی
١ - خوف و ہراس پھیلانے کا کام۔ "ہمیں کیا لینا ہے اس دہشت گردی سے میاں جی . جن کا سر پہلے ہی جھکا ہوا ہے انہیں دبانے سے کیا مل جائے گا۔" ( ١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دہشت' کے ساتھ 'گردیدن' مصدر سے فعل امر 'گرد' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٩٨٠ء کو "وارث" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خوف و ہراس پھیلانے کا کام۔ "ہمیں کیا لینا ہے اس دہشت گردی سے میاں جی . جن کا سر پہلے ہی جھکا ہوا ہے انہیں دبانے سے کیا مل جائے گا۔" ( ١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٠ )